نئی دہلی، 12؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) سپریم کورٹ نے مسلم لڑکیوں کیلئے شادی کی یکساں عمر مقرر کرنے کیلئے قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو)کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے- عدالت نے مذہب اور پرسنل لا کا حوالہ دیتے ہوئے نابالغ مسلم لڑکیوں کی شادی پر اعتراض کیا ہے- اس نوٹس پر عدالت نے مرکزی حکومت سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے-
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی قیادت والی بنچ نے مسلم پرسنل لا ءکے تحت مسلم لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کی عرضی پر مرکز کو نوٹس جاری کیا ہے-خواتین کے قومی کمیشن نے تمام مذاہب اور برادریوں کی لڑکیوں کیلئے شادی کی عمر بڑھا کر 18سال کرنے کی ہدایت جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے- این سی ڈبلیو نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کو چھوڑ کر مختلف پرسنل لاز میں شادی کی کم از کم عمر تعزیری دفعات کے مطابق ہے- دیگر پرسنل لاز میں شادی کی کم از کم عمر مردوں کیلئے21/ اور خواتین کیلئے18سال ہے-
دراصل، خواتین کے قومی کمیشن نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی، جس میں کرناٹک ، پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹس سمیت کئی دیگر ہائی کورٹس کے ذریعے دیے گئے فیصلوں پر روک لگانے اور تفصیلی رہنما خطوط جاری کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا- ان فیصلوں میں پرسنل لا کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لڑکیوں کی شادی کو ان کی ماہواری کے آغاز کے بعد کسی بھی وقت جائز قرار دیا گیا تھا-خواتین کے قومی کمیشن نے شادی کیلئے یکساں کم از کم عمر کی حد مقرر کرنے کی درخواست کے ساتھ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا ہے جس میں 15سالہ مسلم لڑکی کی شادی کو جائز قرار دیا گیا ہے- اب معاملہ کی اگلی سماعت8جنوری 2023کو ہوگی-